پاکستان کے صوبہ سندھ کے اضلاع مٹھی اور تھرپارکر میں حالیہ طبی رپورٹس کے مطابق ہسپتالوں میں جلد کے کینسر اور گردوں کے فیل ہونے کے کیسز میں اچانک 150% سے 220% تک کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کسی وائرس کا حملہ نہیں بلکہ وہ پینے کا پانی ہے جسے یہاں کی نصف سے زائد آبادی روزانہ استعمال کرتی ہے۔
یہ خاموش موت زیر زمین پانی میں چھپے آرسینک (سنکھیا) کی شکل میں بہہ رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Pak-EPA) کے طے شدہ معیارات کے مطابق پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار 10 مائیکروگرام فی لیٹر (µg/L) سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس، پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کے حالیہ سروے کے مطابق، ملک کے 50% سے 60% تک زیر زمین پانی کے نمونوں میں آرسینک کی یہ سطح 50 µg/L سے لے کر 200 µg/L سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کروڑوں پاکستانی روزانہ کی بنیاد پر زہر پی رہے ہیں۔
خلاصہ
- پاکستان کے زیر زمین پانی میں آرسینک کی سطح عالمی معیار سے 20 گنا تک زیادہ ہو چکی ہے۔
- پانی ابالنے سے آرسینک ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی کثافت مزید بڑھ جاتی ہے۔
- جدید RO ٹیکنالوجی اور ملٹی سٹیج فلٹریشن ہی اس زہر سے بچنے کا واحد سائنسی حل ہیں۔
آرسینک آلودگی کے جغرافیائی اور سائنسی حقائق

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دریائے سندھ کے میدانی علاقوں میں واقع شہروں اور دیہاتوں کا زیر زمین پانی سب سے زیادہ متاثر ہے۔ جب ہم زمین کی گہرائی سے پانی نکالتے ہیں، تو ارضیاتی تبدیلیوں اور صنعتی فضلے کے اخراج کی وجہ سے آرسینک پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ کیمیکل ہے، جس کی موجودگی کا پتہ عام انسانی حواس سے لگانا بالکل ناممکن ہے۔
پاکستان کے مختلف شہروں میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق آرسینک کی شرح کچھ اس طرح پائی گئی ہے:
| شہر / علاقہ | آرسینک کی اوسط سطح (µg/L) | خطرہ کا درجہ (WHO حد: 10 µg/L) |
|---|---|---|
| کراچی (ملیر اور لیاری کے مضافات) | 40 – 85 | انتہائی شدید |
| لاہور (واہگہ اور علامہ اقبال ٹاؤن) | 50 – 100 | انتہائی شدید |
| حیدرآباد اور سجاول | 120 – 250 | بحرانی صورتحال |
| ملتان اور وہاڑی | 30 – 70 | متوسط سے شدید |
پانی کی کوالٹی ٹیسٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مٹی کے اندر موجود آرسینک آہستہ آہستہ رس کر واٹر ٹیبل میں شامل ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے 100 فٹ سے 300 فٹ کی گہرائی پر لگائے گئے ٹیوب ویل سب سے زیادہ آلودہ پانی اگل رہے ہیں۔
صحت پر اثرات: ایک سست رفتار زہر
آرسینک انسانی جسم میں داخل ہو کر فوری طور پر اثر نہیں دکھاتا بلکہ یہ ایک سست رفتار زہر کی طرح کام کرتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر آرسینک ملا پانی پینے سے یہ جسم کے خلیوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پانچ سے دس سال مسلسل استعمال کے بعد اس کے اثرات جلد پر سیاہ دھبوں، ہائپر کیراٹوسس (جلد کا سخت ہونا) اور اعصابی کمزوری کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی ابالنے سے آرسینک ختم نہیں ہوتا؟ عام طور پر پاکستانی گھرانوں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانی کو ابال لینے سے وہ ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مغالطہ ہے۔ پانی ابالنے سے صرف جراثیم (بیکٹیریا اور وائرس) مرتے ہیں، لیکن کیمیکلز اور بھاری دھاتیں جیسے آرسینک اور سیسہ ختم نہیں ہوتے۔ بلکہ ابالنے کے دوران پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے جس سے برتن میں موجود باقی پانی میں آرسینک کا ارتکاز (concentration) مزید بڑھ جاتا ہے۔
اس سائنسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ONEMI واٹر پیوریفائرز برانڈ نے اپنی ریسرچ میں پایا کہ روایتی فلٹرز پینے کے پانی سے ان کیمیکلز کو الگ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔
تکنیکی حل: آرسینک کو پانی سے کیسے نکالیں؟
طبی اور سائنسی ماہرین کے مطابق آرسینک کو پانی سے نکالنے کے لیے صرف مخصوص مالیکیولر فلٹریشن ٹیکنالوجی ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ اس عمل میں ریورس اسموسس (Reverse Osmosis) اور ایکٹیویٹڈ ایلومینا فلٹرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ریورس اسموسس (RO) سسٹم میں ایک ایسی سیمی پرمیبل میمبرین استعمال کی جاتی ہے جس کے سوراخوں کا سائز 0.0001 مائیکرون ہوتا ہے۔ چونکہ آرسینک کے مالیکیول کا سائز اس سے بڑا ہوتا ہے، اس لیے یہ میمبرین آرسینک کو 99.9% تک روک کر صاف پانی کو آگے جانے دیتی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب عام واٹر فلٹرز صرف مٹی اور کلورین کو صاف کرتے ہیں، جبکہ بھاری دھاتوں کے لیے ہائی پریشر RO پمپ اور ملٹی سٹیج فلٹریشن لازمی ہے۔
تاہم، یہاں ایک عملی پہلو کو سمجھنا ضروری ہے۔ RO ٹیکنالوجی پانی کو صاف تو کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پانی میں موجود ضروری قدرتی معدنیات جیسے کیلشیم اور میگنیشیم بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ایک ایسے سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے جو پانی کو صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے منرلز کو بھی متوازن رکھے۔
صحیح واٹر پیوریفائر کا انتخاب کیسے کریں؟
پاکستانی مارکیٹ میں فلٹرز کی بہتات ہے، لیکن ہر فلٹر آرسینک جیسے مہلک کیمیکل کو صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ فلٹر خریدتے وقت ہمیشہ اس کی میمبرین کی کوالٹی اور برانڈ کی ساکھ کو چیک کریں۔
اس سلسلے میں ONEMI واٹر پیوریفائر اپنے جدید ترین ملٹی سٹیج انٹیلیجنٹ فلٹریشن سسٹم کے ساتھ ایک بہترین انتخاب کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف پانی میں موجود آرسینک، فلورائیڈ اور بھاری دھاتوں کا مکمل خاتمہ کرتا ہے بلکہ پانی کے ذائقے اور پی ایچ (pH) لیول کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ گھروں میں ONEMI کے سمارٹ فلٹرز کی تنصیب سے آپ اپنے خاندان کو ہیپاٹائٹس، گردوں کی بیماریوں اور کینسر جیسے جان لیوا خطرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
صحت مند زندگی کا دارومدار صاف پانی پر ہے، اور آج کا صحیح فیصلہ کل کی صحت کی ضمانت ہے۔